محض دوسروں کو خوش رکھنے کے فوائد - پہلی قسط



موضوعات کی فہرست
مطیع ، فرماں بردار ، سب کو خوش رکھنے والا رویہ ، دلفریب کیوں ہے ؟
اس سوچ ، اور رویے کی ، ممکنہ وجوہات۔
مثالیں-
اپنی ذات کو مستند قرار دلوانا۔
فیصلے /ذمے داری کے بوجھ سے آزادی ۔
"لوگ کیا کہیں گے "والی سوچ کا ، ایک بہت بڑا فائدہ۔
ایسے لوگ ، فائدے میں کیوں رہتے ہیں ۔

مطیع ، فرماں بردار ، سب کو خوش رکھنے والا رویہ ، دلفریب کیوں ہے ؟
یہ رویہ، بہت سے افراد کے ، پرکشش اور دلفریب ہے ، کیوں کہ اس رویے کو مستقلا اپنا کر ، "تنازعے" سے بچا جا سکتا ہے ،  یہ بظاہر ہی ایسا لگتاہے ، کیوں کہ ، در حقیقت ہے ، یہ تنازعے /منفیت سے بچنا نہیں ، اس سے صرف نظر کرنا ہے ، اس کو ٹالنا ہے ، ختم کرنا نہیں ۔۔ چھپانا ہے ، کیوں کہ ، کچھ افراد کے لیے ، تنازعہ ، شدید ، خوف کا سبب ہوتاہے ، مفعول ، ٹائپ کے ، افراد جنہیں
"لوگ کیا کہیں گے " کی بہت پروا ہوتی ہے ، ان کے ہاں ، تنازعہ بہت خوفناک اور ہولنا ک چیز ہوتی ہے،
ایسے افراد ، جو ، مطیع کے درجے سے نیچے گر کر ، مفعول ہوجاتے ہیں ، جنہیں سانس بھی یہ سوچ کر لینی پڑتی ہے کہ ، آواز سن کر لوگ کیا کہیں گے ، وہ بڑے ہی آرام دہ اور محفوظ حالت میں رہتے ہوئے ، اپنے اس رویے اور تھاٹ پیٹرن ، کو ، قائم رکھ سکتے ہیں ۔

اس سوچ ، اور رویے کی ، ممکنہ وجوہات۔
اکثر اوقات ، یہ والے تھاٹ پیٹرنز ، گھر بار ، رشتے تعلقات، سوسائٹی  ، رسم و رواج کی وجہ سے بھی وجود میں آتے ہیں
گھر میں والدین ، کی بے جا سختی
واضح رہے ،والدین کی سختی (خصوصا ، جائزسختی ، لڑکوں کے لیے ) ضروری ہے ، پر بے جا ، ہربات پر ، تنقید ، اور اخلاقیات/مذہب کے حوالے سے ، صرف اپنی منوانا، کہ لوگ کیا کہیں گے ، ناک کٹوادی وغیرہ وغیرہ ، اس رویے کو بے جا لکھا ہے ۔
 تعلیمی نظام  ، اسکول کالج ، میں ڈسپلن کے نام پر غلامی سکھانا ،
یا پھر سوسائٹی کے دوسرے ، مراکز ، جہاں سے انسان  ، محض دبنا  ہی سیکھتا ہے ، خواہ ، کارپوریٹ کلچر ہی کیوں نہ ہو
مثالیں-
اس کی ایک چھوٹی سی مثا ل ،
سامنے والے شخص کو ، رزیل کرنے کا من ہوتا ہے ، لیکن ، آفس ای میل میں ، اسے کائنڈ ریگارڈز ، لکھنا پڑتا ہے ، کہ ، کارپوریٹ نارمز ہیں ۔
کسی کا نام لیے بغیر ، اس کی غلط ، بات آشکار کرنے کی پرمیشن نہیں ہوتی ۔
اکثر اوقات"میں نام نہیں لینا چاہتا" کے پرد ے میں ، عمومی بات کر کے ، کسی خاص شخص یا کلچر کو ٹارگٹ کرنا بھی اسی زمرے میں آتا ہے کہ ، سوچ بہت دب چکی ہے،ہاں یہ ہر جگہ ضروری بھی نہیں ، اور یہی ججمنٹ کہ کہاں ضروری ہے کہاں نہیں، اور ، کتنا آشکار کرنا ضروری ہے  ، یہ حکمت کہلاتی ہے۔اور جب بچپن سے ایسے ماحول میں جی رہے  ہوں ، تو ، ایسی ذہنی رکاوٹوں کو توڑنا ، شدید ذہنی دباو کا باعث بنتا ہے
ایک اور مثال ،
کوئی عورت ، اپنے شوہر کو ، دوسری شادی کی اجازت دے کر دیکھے ، اس عورت اور شوہر کا معاملہ اپنی جگہ ، سب سے پہلے اس پر سوسائٹی چڑھے گی  ، مرد کا تو چھوڑ ہی دیں کہ اس کے ساتھ کیا ہوتا ہے ، یعنی جب وہ دوسری شادی کی بات کرے ۔
دوسری شادی کے موضوع کو بھی چھوڑیں ،
 پہلی شادی  ، کی بات کرنے والا" بہت جوانی چڑھ گئی ہے "، بہت گرمی چڑھ رہی ہے ، جیسے جملے سنتا ہے ، کماتے کماتے تیس پینتیس کا ہوجاتا ہے ، پر
بینک اکاونٹ گیلا کرتے کرتے ، جذبات کے سوتے، "مجھے شرم آتی ہے " ایسی باتیں کرتے ہو ئے  ، کے چکر میں ، خشک ہوجاتے ہیں


تبصرے