اس قسط میں ، ہم ، الفا یعنی اصیل اور خالص مرد کی پانچویں اہم ترین خصوصیت پر بات کریں گے ، اور یہ دیکھیں گے ،
الفا مرد خود پر
بھروسا کرتا ہے ، بیٹا یعنی سطحی مرد، دوسروں پر۔
چونکہ ، الفا مرد، اپنی زندگی کی مکمل ذمے داری خود لیتے
ہیں ، تو لامحالہ ، ان کے پاس ، خود پہ بھروسہ کرنے کے علاوہ اور کوئی چارہ ہوتا
ہی نہیں ، ہاں ، وہ کسی ماہر کی نصیحت ، یا رائے ضرور تلاشتے ہیں ، اور یہ جانتے
ہیں کہ ، انہیں کب ، کس سے ، کس قسم کی مدد درکار ہے ، یہ بھی بااعتمادی ہی ہے ،
عاجزی ہی ہے کہ ، خود کو نرم کر کے جھکا کر ، دوسرے سے کچھ پوچھ لینا ، کچھ کہہ
دینا ، کچھ سمجھ لینا ، دوسرے کا ہرگز مطلب ، ہر ایرا غیرا نہیں ، بلکہ ، جیسا کہ
پہلے کہا ، ماہر۔
پر ا س سب کے بعد ، الفا مرد، اپنی زندگی کا کپتان خود ہی
ہوتا ہے ، اور انہیں معلوم ہوتاہے کہ ، ان
کی زندگی /ماحول سے متعلق ، ان کی شخصیت سے نتھی ہر چیز سے ہر رخ سے منسلک ، تمام
فیصلے انہیں کے کاندھوں پر آئیں گے ، اور انہیں ہی لینے ہیں ۔
مثلا ، اگر کوئی نوجوان
الفا مرد ہے ، تو وہ یقینا ، تعلیمی معاملات میں ، اپنے ، والدین ، اپنے
دوسروں اپنے استادوں سے ، یہ پوچھتا پایا جائے گا کہ، اسے ، کالج میں رہنا چاہئے
یا ، چھوڑ دینا چاہئے ، تعلیم آگے پوری
کرنی چاہئے ، یا نہیں ، وہ سب سے ضرور پوچھے گا ، اور ہر تقریبا ہر روایتی جواب
یہی ہوگا کہ کرلو ، لیکن اسے اگر یہ محسوس ہوتا ہے کہ ، وہ تعلیم کے ساتھ جم نہیں
پا رہا ، کلاس روم اور مشینی تعلیی نظام سے کہیں زیادہ ہے یہ زندگی ، کہیں بڑے ہیں
، زندگی کے معاملات، تو وہ اپنی سب سے پوچھ کر ، لیکن اپنی مرضی سے ، تعلیم جاری
نہ رکھنے کا فیصلہ خود کرے گا ، اور اپنے خوابوں کی تکمیل کے سفر پر روانہ ہوجائے
گا
اب اس سفر میں مشکلات آئیں یا ناکامی ، اسے معلوم ہوگا کہ ،
یہ راستہ اس نے خود چنا ہے ، اسے یہ بھی معلوم ہوگا، کہ اپنی زندگی میں اپنی مرضی
راستہ چننے کا درد، اذیت اور آزمائش، اس پچھتاوے سے بہرحال بہت کم ہے ، جو اس نے
فیصلہ نہ لے کر ، جھیلنا تھا۔
یا ، دوسروں کے کہنے پر عمل کر کے ، اپنی زندگی کو ڈیزائن
کر کے ، جو خلش رہ جاتی ، اس پچھتاوے کی زندگی اور درد سے ، یہ درد بہرحال بہت کم
ہے ، جو اس راستے میں ہے ، جو اس نے شعوری طور پر چنا،
اور ویسے بھی زندگی ، کی حقیقت ہے کیا ؟ چند فیصلے ،
انتخابات ، یعنی کچھ چوائسز کی آزادی ،
Life is all about making choices
رائٹ؟
غلط اور ٹھیک کا تو پتا اس وقت نہں چلتا جب آپ چوائس لے رہے
ہوتے ہو ، کیوں کہ ، آپ کے اختیار میں فیصلہ ہے ، اور انتھک کوشش ہے ۔
یہ ہوا الفا مرد کا معاملہ ۔
اب بات کرتے ، بیٹا مرد کی ،
ایک تو ان مردوں میں ، اعتماد کی کمی ہوتی ہے ۔
یہ پناہ ، دوسروں اور صرف اور صرف ، سماج کی نصیحتوں میں
ڈھونڈتے ہیں ۔
اپنی فیملی ، اپنے دوستوں ، اپنے سماج، حتی کے سرکارکو ،
اپنے فیصلوں تک رسائی دے دیتے ہیں ، کہ وہ انہیں یہ بتا سکیں کہ ، زندگی کیسے جینی
ہے ۔
جو راستہ ان کے لیے مناسب نہ بھی ہو ، یہ اسی پر رہتے ہیں
،ایسی نوکری کرتےہیں جس میں ، روح تک گروی ہوجائے ، عام سی عورت سے شادی کرلی ، اس
سے بچے ہوگئے ، یہ سب ٹحیک ہوتا ، اگر وہ یہی سب چاہتے ہوتے ، لیکن یہ اس لیے نہیں
ہوتا کہ وہ یہ سب ، چاہ رہے تھے ، بلکہ یہ سب اس لیے ہوتا ہے کہ ، انہیں یہ بتایا
گیا ہوتا ہے ، انہیں سماج سے یہ سبق ملا ہوتا ہے کہ ، انہیں اندھا دھند اسی
فارمولے پر چلناہے
مذکورہ اہداف ، یعنی ایسی نوکری ، ایسی عورت ، اس لائف پر
چل کر ، بچے پیدا کرلینا ، ان میں کوئی مسئلہ نہں ، اگر آپ ، صرف اور صرف ، دل
سےیہی چاہتے ہو ،نہ ، کہ اس لیے چاہتےہو کہ آپ کا مائنڈ سیٹ ایسا بنا دیا گیا ہے
کہ ، اصل پرسکون زندگی یہی ہے ۔
خود پر اعتماد کے معاملے میں یہ بات سمجھ لیں کہ ،
یہاں خود اعتمادی کا ہرگز مطلب ، غرور ، یا ، ظاہری طور پر
دانش وری جھاڑنا ہے
مختصرا یہ کہ ، الفا مرد، کبھی بھی ،کسی ، کامیاب آدمی کی ، نصیحت کو نظر انداز
نہیں کرے گا ، خصوصا جب وہ اپنا کاروبار شروع کرنے جا رہا ہو۔
ہاں ،خود اعتمادی ، اپنی
چاہتوں پر اعتماد کا نام ہے ،
یہ کوالٹٰی الفا اور بیٹا مرد میں فرق مزید واضح کرتی ہے کہ
،
الفا مرد، اپنے فیصلوں کو اپنے ہاتھ میں لے کر اپنی مرضی کی زندگی جینے کے لیے ، دوسرے
لوگوں کی ، نصیحتیں سنتا ہے ، جبکہ ، بیٹا ، یعنی سطحی یا ڈالڈا مرد، دوسروں سے یہ جاننے کے لیے ، نصیحت لیتا
ہے کہ، زندگی جیتے کیسے ہیں ۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
بلاگ پر تشریف آوری کے لیے ، شکریہ، آپ کی قیمتی رائے شایع کردی گئی ہے۔