انسانی ذہن ، اکثر ،مخمصے کا شکار رہتا ہے کہ ، حقائق اور
مشاہدے میں فرق کیاہے۔خصوصا ، جب کوئی حقیقت ، کسی
باوثوق ذریعے سے سنتا ہے ، جس میں بظاہر وزن بھی ہو، اور اس پر انحصار بھی کیا جاسکتا ہو، تو ایسے ،
فیکٹ، یعنی حقیقت سمجھا جاتا ہے ۔اور یہ سوچ لیا جاتا ہے کہ فلاں شخص جو اتنا قابل اعتماد ہے ، و ہ غلط بات کیسےکرسکتا ہے ، جوکہہ رہا ہے ، سچ ہی کہہ رہا ہوگا۔ جبکہ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ وہ بیان ، جو
اس باوثوق ذریعے سے ہم تک پہنچا ہے ، وہبھی محض ایک مشاہدہ ہی ہے بس ہم نے اسے جو وزن دیا ہے ،وہ صرف اس شخص کی وجہ سے ہے ،جس کے توسط سے وہ بات ہم تک پہنچی ہے ۔
مثال کے طور پہاکثر اوقات قریبی حلقہ احباب کی بات پر ، جلدایمان لے آتے ہیں ۔ اور کسی ، سرسری سے تعلق یا ، آفس کولیگ سے سننے کو ملے تو ہم اس پر بہت زیادہ ، یقین نہیں کرتے۔
اچھا یہ بھی ضروری نہیں کہ
وہ اس خبر ذریعہ کوئی دوسراشخص ہی ہو ، وہ کسی اخبار ، یا الیکٹرونک ذریعے سے بھی ہم تک پہنچ سکتی ہے ۔
مثلا،
شاید آپ نے کبھی یہ سنا ہوگا کہ آج سے دس سال بعد زمین ، بیس میل قطر کے ،شہاب ثاقب کی زد میں آکر،تباہ ہوجائے گی ممکن ہے ، آپ نے ، اس شخص سے ، پوچھا بھی ہو
کہ اس نے یہ خبر کہاں پڑھی ۔تو وہ کہے گا کہ انٹرنیٹ ۔
اب اس وجہ سے آپ ، اس کی بات پر غالبا ،زیادہ غور نہ کریں ، اور درست نہ مانیں
کیوں کہ وہ انتہائی ناقص اور کمزورذرایع کا ذکر کررہا ہے ۔
تاہم اگر یہ خبر آ پ کو کسی ، اجنبی خلابازسے ملے ، جو، اس میں اپنے ذاتی تجربات کا
وزن بھی ڈال رہا ہوتو آپ ، یقینا ، کسی زیر زمین بنکر میں پناہ لینے کے لیے دوڑپڑیں گے ۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
بلاگ پر تشریف آوری کے لیے ، شکریہ، آپ کی قیمتی رائے شایع کردی گئی ہے۔