نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں
کہانی کے کرداروں کو المناک ترین موت سے ہمکنار کرنے کے چھ اصول
- کوشش کیجئے کہ، آپ کی کہانی کا کردار بڑھاپا نہ جی سکے،اس طرح پڑھنے یا دیکھنے والے کے دماغ میں یہ آتا ہےکہ اس نے اپنی پوری زندگی بھرپور گزاری ہے، ہاں اگر ںڑھاپا ضروری ہے، تو، اس کے ساتھ دوسرے فیکٹر ،جو تکالیف کے ہوں، اٹیچ کردیئے جایں، لیکن کوشش کیجئے کہ بڑھاپے تک کسی کردار کو نہ لے کے جایا جائے۔
- ان کی زندگی کا کوئی مرکزی مقصد یا ہدف ادھورا چھڑوا دیجئے جتنا وہ کردار اپنے ہدف کو پرجوش طریقے سے سے پورا کرتا ہوا دکھایا جائے گا اور پورا کرنے سے پہلے ہی اسے موت کے گھاٹ اتار دیا جائے گا اتنا ہی اس کا انجام المناک ہوگا اور کمزور دل منحوس مارے اور صرف اپنی ذات کے لیے، حساسیت زدہ قاری / ناظر کی آنکھیں بھر آئیں گے۔ (لول)۔
- جس کردار کی موت لکھنی ہے، اس کردار کو المناک موت کا شکار کرنے کے لئے ،اس کا تعلق/رشتہ، کہانی کے دوسرے کرداروں سے بہت زیادہ مضبوط دکھایا جائے ،ایک چھوٹی سی مثال، حالیہ ٹی وی شوز میں، نیڈ سٹارک، نائیروبی اور ںرلن کی ہے۔
- اگر وہ کسی بیماری کا شکار ہیں، یا کسی حادثے کا شکار ہوگیا اپنی زندگی اور موت کی کشمکش میں جوش اور امید کے ساتھ لڑ رہے ہیں، تب ان کی موت اتنی ہی زیادہ المناک ہوگی، کیونکہ زندگی کی جدوجہد کے لیے لڑتا ہوا شخص اگر زندگی ہار جائے تو اس کی موت، اس شخص سے زیادہ اداسی کا باعث ہوتی ہے جو زندگی کے لئے کوشش کئے بغیر ہی ہتھیار ڈال دے۔
- اگر آپ کسی کردار کو قتل /موت سے ہمکنار، کرنے کا فیصلہ کرہی چکے ہیں تو اسے اپنی کہانی کے کلائمکس یعنی اس کی ٹائم لائن گے بلکل عین درمیان یعنی ، نصف النہار میں قتل/موت سے ہمکنار کیجئے ۔
- موت کے بعد اس کردار کے جنازے، کو بہت زیادہ ہائی لائٹ نہ کریں، ہوسکتا ہے یہ بات کوئی فارمولا نہ ہو ،لیکن لیکن ذاتی رائے یہ ہے، کہ کسی کردار کی موت کو ،اگر بہت زیادہ گمنام یا عمومی کردیا جائے، اس کے جنازے کی بہت زیادہ تفاصیل نہ دکھائیں ،تو اس کی موت مزید المناک ہو جاتی ہے۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
بلاگ پر تشریف آوری کے لیے ، شکریہ، آپ کی قیمتی رائے شایع کردی گئی ہے۔