تنقید برائے تعمیر کا سامنا کیسے کریں ؟



اکثر اوقات، مثبت تنقید ہی، خود کو بہتر کرنے کا آخری اور باکمال ذریعہ ہوتا یے ۔ کیوں کہ، اس کی وجہ سے ہم، اپنی شخصی کجیوں/خامیوں کو جان سکتے ہیں۔
جب ہم اس کے جواب میں،دفاعی انداز اختیار کرتے ہیں تو ، یہ خطرہ بہرحال لاحق ہوتا ہے کہ ہم شاید اپنی شخصیت کے اس پہلو /کمزوری سے لاعلم۔رہ جائیں گے، جو اس تنقید کے نیتجے میں ہمیں سمجھ آنے والا تھا۔
کسی کی ذات پر رائے دینا، آسان نہیں، اور اس سے بھی مشکل ہے، اسے سننا۔
پر یہ واقعی مددگار ثابت ہوتاہے ، اور ہوتا رہے گا۔

اس کا سامنا کیسےکریں ؟
سب سے پہلے تو، خود کو کسی بھی طرح کے ردعمل سے روکئے۔
مکمل طور پر ساکت ہوجائے، اور دماغ کو لاک کرلیجیے۔ اضطرار پہ قابو پایئے۔
شروع کے چند  سیکنڈ ہی بہت ہوتے ہیں، اس انفارمیشن کو پروسیس ہونے دیجئے۔

تاثرات سپاٹ کر لیجئے یا جیسے تھے ان پر ہی رک جائے۔
خود کو یاد دلائیے کہ آپ کو ٹھنڈا رہنا ہے۔

دماغ میں ان فوائد کو نام لے لے کر دہرانا شروع کیجیے، جو مثبت تنقید سے حاصل ہوتے ہیں
مثلا۔

صلاحتیوں میں بہتری
پیداواری صلاحتیوں میں اضافہ
تعلقات میں خوشگواری۔
یہ سب مل کر آپ کو ایک۔خوب صورت شخصیت بنا دیں گے۔
اس دہرائی کے ساتھ ساتھ، ہر اس ری ایکشن، یا ایکشن کو ، جھٹکتے رہیں، جو فیڈ بیک، دینے والے شخص کے لیے  آپ میں ابھر رہا ہو۔
حتی کہ ان لوگوں کے لیے بھی، جن کی آپ کی نظروں میں خاص وقعت یا عزت نہی ، اگر ان کا ردعمل بھی مثبت , ہے تب بھی یہ کڑوا گھونٹ پیتےرہیں اور ردعمل روکتے رہیں۔

سمجھنے/ جذب کرنے کے کیےسنئے۔
جیسے ہی آپ پر مثبت اور تعمیری تنقید کا آغاز ہو،
ہمہ تن گوش ہوجائے، اس شخص کو، بات مکمل کرنےکے دیجیئے
جب وہ بات پوری کرے
تو اس کی بات کو ، دہرا کر اس سے کنفرم۔کیجیے۔

کوشش کیجیے، کہ اس کے تبصرے پر سوال نہ اٹھائیں،اور نہ ہی تبصرے کا تجزیہ کیجیے، صرف سنئے،اور اس کے زاویہ نگاہ پہ غور کیجئے۔

تبصرے